انسان گندگی کے ڈھیر میں رہنے لگ جائے تو پھر اسے بدبو آنا بند ہو جاتی ہیں

کچھ دن پہلے ایک خاتون سے دوپہر کو ملاقات ہوئی جو جسم فروش تھیں رات کو چونکہ وہ روزی کمانے میں مصروف ہوتی ہیں اس وجہ سے دن میں ملاقات کرنی پڑی ویسے بھی ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی کی روزی کمانے کے وقت اس کو مشکل میں ڈالے، انہوں نے بہت عزت کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بٹھایا، خاطر مدارت کی، ان کا حال پوچھنے کے بعد میں نے سوال کیا کہ آپ اس بے لذت کام میں کیسے پھنس گئیں، ایک لمحے کیلئے ان کے چہرے پر اداسی چھلکی پھر مسکرا کربولیں کہ عشق ہوگیا تھا اور محبت میں اندھی ھوکر گھر سے بھاگ نکلی کچھ دن محبوب نے چار دیواری میں میری چادر اتار کر دل و جان سے محبت کی اور اس کے بعد نہ سر ڈھانپنے کو دیوار رہی نہ چادر رہی جب واپسی کا سفر کرنے کا سوچا تو خیال آیا کہ بھاگنے کا فیصلہ تو میرا تھا اب اگر گھر گئی تو جو تھوڑی بہت والدین کی عزت بچی ہے وہ بھی لوگ تارتار کر دیں گے رہنے کو ایک جگہ ٹھکانا ملا جہاں مجھ جیسی لڑکیاں تھیں اور بس پھر جسم ہی روزی روٹی کا سبب بن گیا،، سوال کیا کہ والدین تو معاف کر ہی دیتے ہیں ان کا نرم دل ہوتا ہے تو ایک بار چلی جاتیں تو مسکرا کر بولی معاف تو اللہ بھی کردیتا ہے لیکن لوگ معاف نہیں کرتے عورت کا منہ کالا ھو جائے تو پھر یہ دنیا والے کبھی گورا ہونے نہیں دیتے، مرتے دم تک کالا ہی رہتا ہے، سوال کیا کہ چلیں بھیک مانگ لیتی کم سے کم جسم فروشی سے تو اچھا کام ہے تو بولیں یہ سب کتابی باتیں ہیں کوئی کسی بھکارن کو کرائے کا کمرہ بھی نہیں دیتا جھونپڑی میں بھی نہیں رکھتا عزت بیچ کر کم سے کم عزت سے تو رہ لیتی ھوں، اپنا گھر ہے اپنا بستر ہے اس دنیا میں اسی کی عزت ہے جس کے پاس پیسا ہے یہ دنیا تو منافق لوگوں سے بھری پڑی ہے جو نیکی کا درس دیتے ہیں اور اندر سے شیطان ہیں، کسی مولوی کو کہیں کہ طوائف سے شادی کرے گا تو وہیں بولتی بند ہو جائے گی، سوال کیا کہ محبت کیا ہے تو کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعدبولیں کہ محبت بھی ایک دھندہ ہے، مرد اپنی رقم انویسٹ کرتا ہے اور پھر محبوبہ کے جسم سے کھیل کر سود سمیت واپس لیتا ہے اب وہ عورت اپنے محبوب کے رحم و کرم پر ہوتی ہے مرضی ہے شادی کرلے اور مرضی ہے چھوڑ دے جو لوگ سچ میں محبت کرتے ہیں وہ نکاح کا راستہ اختیار کرتے ہیں، سوال کیا کہ گناہ کرتے ہوئے تکلیف نہیں ہوتی تو بولیں کہ جب انسان گندگی کے ڈھیر میں رہنے لگ جائے تو پھر اسے بدبو آنا بند ہو جاتی ہیں

Share this on...Share on FacebookEmail this to someonePrint this page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

گذشتہ شمارے